11 مارچ 2026 - 00:00
تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے، مصری کمانڈر

ایک ریٹائرڈ مصری کمانڈر نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ عملی طور پر کچھ عرصہ قبل شروع ہو چکی ہے اور اب نئی دنیا کی تشکیل کا عمل خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔/ انھوں نے مسلم ممالک کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ زمانہ افتراق اور گروہ بندیوں کا زمانہ نہیں ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں کا مقصد بھی یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان وسیع تر اتحاد کے قیام کا راستہ روکا جائے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایک ریٹائرڈ مصری کمانڈر نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ عملی طور پر کچھ عرصہ قبل شروع ہو چکی ہے اور اب نئی دنیا کی تشکیل کا عمل خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

ریٹائرڈ مصری کمانڈر احمد وصفی نے رشیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: تیسری عالمی جنگ صرف دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان نہيں ہے بلکہ یہ عملی طور پر تین چار سال قبل شروع ہوچکی ہے، یہ جنگ پہلی اور دوسری جنگوں کی طرح صرف فوجی جنگ نہیں ہے بلکہ ان جنگوں سے مختلف ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ جنگ اقتصادی، سیاسی، ثقافتی سطحوں پر ـ ہر ملک کے اپنے وزن کے مطابق ـ شروع ہوئی ہے اور آج جو فوجی جنگ شروع ہوئی ہے تو اس کا مطلب اس عالمی جنگ کے مجموعی دائرہ کار کے تعین کے لئے ہے اور یقینا ہر عالمی جنگ سے ایک نئی دنیا جنم لیتی ہے۔

احمد وصفی کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بھی "کیک کی تقسیم" کے لئے ہے یوں کہ اسرائیل امریکی کی جانب سے خطے پر مسلط ہو، اور امریکہ قطب شمالی کے ایک حصے پر قبضہ کر لے اور دوسری قوتیں بھی دنیا کے مختلف حصوں پر مسلط ہو جائیں اور خلیج فارس کی دولت بھی ان قوتوں کے ہاتھ میں چلے جائیں جو اس جنگ میں اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیں گی۔ امریکہ اس وقت اس نقشے پر کام کر رہا ہے اور وہ آبناؤں پر قابض ہو کر، توانائی اور غذائی مواد کی گذرگاہوں کو اسرائیل کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔

اس امریکی افسر کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور اس جنگ سے امریکہ اور اسرائیل کا مقصد مشرق وسطی کے پورے علاقے کا نقشہ بدل دینا ہے۔

انھوں نے مسلم ممالک کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ زمانہ افتراق اور گروہ بندیوں کا زمانہ نہیں ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں کا مقصد بھی یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان وسیع تر اتحاد کے قیام کا راستہ روکا جائے۔

وصفی نے کہا کہ سعودی عرب اس وقت "آگ کے دل" میں واقع ہؤا ہے، اور مصر اور ترکیہ مختلف قسم کی کشیدگیوں کے بیچ واقع ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha